قیصر روم نے امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو خط لکھا کہ مجھے دائمی سر درد کی شکایت ہے اگر آپ کے پاس اس کی دوا ہے تو بھیج دیجئے! حضرت سید نا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو ایک ٹوپی بھیج دی۔قیصر روم اس ٹوپی کو پہنتا تو اس کے سر کا درد کم ہو جاتا لیکن جب وہ اس ٹوپی کو سر سے اتارتا تو اس کا سر پھر سے درد کرنے لگتا۔
قیصر روم کو اس سے بڑا تعجب ہوا۔آخرکار اس نے اس ٹوپی کو ادھیڈا تو اس سے ایک کاغذ برآمد ہوا جس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو سر کا درد ہو وہ کسی کاغذ پر پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر یا پھر کسی سے لکھوا کر اپنے سر پر باندھ لیں انشاءاللہ سر کا درد ختم ہو جائےگا
بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کا طریقہ
تعویز لکھتے وقت اسے بال پوائنٹ کے ساتھ لکھیں اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہ اور تینوں م کے دائرے کھلے رکھیں۔اور تعویز لکھنے کے بعد اسے موم سے تر کیے ہوئے کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹ لیں۔یا پلاسٹک کوٹنگ کرلیں اور پھر اسے کپڑے یا ریگزین میں تعویز بنا لیں اور یقین کے ساتھ سر پر باندھ لیں۔