بہترین عورت کون ہے؟حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صحابہ سے سوال کیا۔ بتاؤں بہترین عورت کون ہے۔ صحابہ سے حضور نے جب یہ سوال پوچھا تو صحابہ نے مختلف جواب دیئے ۔کسی نے کہا پنجگانہ نماز پڑھنے والی۔ کسی نے کہا زکوۃ دینے والی ۔کسی نے کہا روزے رکھنے والی۔ کسی نے کچھ کہا تو کسی نے کچھ کہا آپ نے کہا بات تمہاری ٹھیک ہے لیکن تم میری مراد کو نہیں پہنچے۔ پھر ایک نے جواب دیا یا رسول اللہ سب سے بہترین عورت وہ ہے ۔جو پردہ کرتی ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات تمہاری بھی ٹھیک ہے لیکن تم بھی میری مراد کو نہیں پہنچے۔
حضرت علی کی سمجھ داری
حضرت علی کہتے ہیں میں بھی وہاں موجود تھا۔ لیکن میں بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو نہیں سمجھ سکا تھا ۔حالانکہ شہر علم کے دروازے کا نام مولا علی ہے۔ فرماتے ہیں اس وقت اللہ کی حکمت کوئی اور تھی کہ جواب کوئی اور ہی دے۔ حضرت علی کا قد چھوٹا تھا۔ اور وہ پیچھے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں میں گردن جھکا کر نکل گیا اور حضرت فاطمہ کے حجرے میں پہنچ گیا ۔اور حضرت فاطمہ سے کہا اے فاطمہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال پوچھا ہے۔ لیکن جو بھی جواب دیتا ہے آپ فرماتے ہیں کہ جواب تمہارا ٹھیک ہے لیکن تم میری مراد کو نہیں پہنچے۔ فاطمہ تم جلدی سے جواب نہیں دیتی ہو۔ تو خاتون جنت ہنسنے لگی۔ اور فرمایا کہ ابا جان نے اتنا ہی مشکل سوال پوچھ لیا ہے حضرت علی نے کہا نہیں سوال تو آسان ہے لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا آپ جواب دے دو۔
حضرت فاطمہ کا جواب
حضرت علی نے حضرت فاطمہ کو سوال بتایا تو حضرت فاطمہ نے فوراً جواب دے دیا ۔اور جواب کیا دیا کہ اسلام میں سب سے بہترین عورت وہ ہے جس نے نہ ہی خود کبھی کسی غیر محرم کو دیکھا ہو اور نہ ہی کبھی کسی غیر محرم نے اس عورت کو دیکھا ہو ۔اور یہ کوئی پردہ نہیں ہے کہ بی بی کہتی ہوکہ میں تو چہرہ ڈھانپ کر نکلی تھی باقی میں دکاندار سب سے بات کر رہی ہوں سب کے چہرے دیکھ ائیں ہو ں۔حضرت فاطمہ نے بتایا کہ تیری آنکھوں کا بھی پردہ ہے۔
حضرت علی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت علی کہتے ہیں میں حضرت فاطمہ کا جواب سن کر واپس آ کر بیٹھ گیا ۔بات ابھی جا ری تھی ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ آتا ہے کسی کو جواب تو حضرت علی نے ہاتھ کھڑا کر دیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہاں بولو ۔حضرت علی نے عرض کی حضور بہترین عورت وہ ہے جسے نہ کسی غیر محرم نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس نے کسی غیر محرم کو دیکھا ہو۔ تو حضرت علی کہتے ہیں شاباش مجھے ملنی چاہیے تھی نہ ۔حضور مسکرا پڑے اور کہنے لگے میں نے تو پہلے ہی کہا تھا ۔فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ تو کہتے ہیں صحابہ میری طرف دیکھنے لگے یہ تو تعریف فاطمہ کی ہونے لگی ہے۔ اللہ کے نبی کو پہلے ہی پتہ چل چکا تھا کہ یہ جواب حضرت فاطمہ کا ہے۔
غیر محرم سے پردہ
ایک اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ ام سلمہ سے کہا کہ عبداللہ ابن مکتوم نابینا آئے ہیں۔ تو پردہ کرو سیرت میں لکھا ہے کہ یہ نابینا ایک دن حضرت فاطمہ کے گھر چلے گئے ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کو لے کر داخل ہوئے تو جناب فاطمہ نے نظریں جھکا لیں۔ پردہ کرلیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹی وہ تو نابینا ہے تو حضرت فاطمہ نے فرمایا حضور مجھے تو نظر آ رہا ہے نا۔حضور نے جو ازواج کو کہاوہ بات بعد کی تو حضرت فاطمہ کا جو انداز ہے وہ نرالا ہے- اللہ تعالی اسلام کی ہر بیٹی کو حضرت فاطمہ جیسی سیرت عطا فرمائے۔