ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں چار بہنیں اسامہ ثناء مومنہ اور آمنہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی ان کے ماں باپ بہت غریب تھے اسی لیے یہ چاروں لڑکیاں اپنے ماں باپ سے کسی قسم کی چیر کی خواہش نہیں کرتی تھیں اسامہ جوان خوبصورت اور بہت سمجھدار تھی ثناء کے خوبصورت لمبے بال تھے اور وہ بہت حوشیار تھی
اس لیے وہ کہانی گار بنانا جانتی تھی مومنہ شرمیلی تھی اور آمنہ سب سے چھوٹی تھی اور ساری بہنوں میں سب سے خوبصورت تھی ان چاروں بہنوں کا آپس میں بہت مضبوط رشتہ تھا سارا گاؤں ان کی ذہانت کی تریف کرتا تھا اور ان کو چھوٹی پریاں کہر کر بولتے تھے ایک دن ایک سپاہی ان کے گھر آیا اور ا ن کے ابا جان کو بولا کہ جنگ شروع ہو گئی ہے آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا لڑکیاں اپنے باپ کے ساتھ لگ کر رونے لگی اور بولی کہ اباجان مہربانی کرکے نہ جاو باپ بولا کہ یہ میرا فرض ہے اپنے ملک کی خاطر مجھے جانا ہے کافی عرصہ گزر گیا ان کا با پ نہ آیا گھر کا راشن بھی ختم ہورہا تھا ماں بہت پریشان تھی ماں نے اسامہ کو اپنے پاس بولا کر کہا کہ میں جتنی کوشش کرسکتی تھی میں نے کی مگراب گزارہ مشکل ہو گیا ہے اسامہ ے اپنی ماں کو حوصلہ دیا اور کہا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی دیکھا تو ڈاکیا خط لے کر آیا تھا جس میں لکھا تھا کہ ان کے باپ کو بہت چوٹیں لگی ہیں اور وہ ہسپتال میں داخل ہیں کسی کو ان کی دیکھ بھال کے لیے آنا ہو گا ماں بہت پریشان ہوئی
اور کہنے لگی کہ میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں کہ میں سواری کروا کر جا سکوں ثناء نے اپنی ماں سے کہا میں پیسوں کا انتظام کرکے آتی ہوں کچھ دیر بعدوہ گھر واپس آئی اور اپنی ماں کو کافی سارے پیسے دیئے ماں پریشان ہوکر بول کر اتنے سارے پیسے تمہیں کسی نے دیئے ثناء بولی کہ میں نے بال فروخت کرکے پیسے لائی ہو ں بالوں کا کیا ہے پھر آجائے گے ابھی ابا کی صحت زیاده ضروری ہے ماں فوری تیار ہوئی اور سفر کی طرف روانہ ہوگی کچھ دنوں بعد مومنہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی یہ تینوں بہنیں بہت پریشان ہوئی کہ اب کیا کیا جائے ہمارے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں کہ ڈاکٹر کولا کرمعین کروالیا جائے اور باہر باش بھی ہورہی ہے اسامہ باش میں دورتی دورتی ڈاکٹر کو لینے کے لیے کئی ڈاکٹر نے آکر مومن کا معین کیا اسامہ نے ڈاکٹر سے کہا کہ ہمارے پاس آپکی فیس کے لیے پیسے نہیں ہیں ڈاکٹرنے کہا کر کوئی بعد نہیں ایک دو روز بعد ان کی ماں گھر واپس آگئی
لڑکیاں اپنی ماں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی لڑکیوں نے ماں سے باپ کے بارے میں پوچھا تو ماں بولی کے تمہارے باپ کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ابھی کافی وقت لگے گا ان کو گھر آنےمیں دیکھتے دیکھتے دن گزرتے گئے اور عید آگئی کپڑوں کی خواہش میں تھیں لیکن بدقسمتی سے ان کے پاس ناشتے کے بھی پیسے نہ تھے اور ايک دم دستک ہوئی ماں اور بیٹیاں پریشان کہ اتنی صبح کون ہو سکتا ہے ایک دم دروازه کھولتا ہے تو ان کا باپ ہوتا ہے بیٹیاں اپنے باپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی ان کے آبا چاروں لڑکیوں کے لیے عید کے تخفے لے کر آیا تھاوہ سب بہت خوش ہوئے ان کی عید کی خوشیاں دوبالا ہو گئی تھیں