Skip to content

الفا ظ کے اثرات

بسمہ تعالی
ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا ہوا کچھ اس طرح کے اسکے سارے دانت ٹوٹ کے گر پڑے اس نے اپنے خواب کی تعبیر کے لئیے بہت سے لوگوں کو بلایا مگر کسی نے کچھ بتایا تو کسی نے کچھ سنایا بادشاہ نے ایک مفسر کو بلایا اور کہا کہ میں نے اس طرح کا خواب دیکھا ہے
مفسر نے کہا بادشاہ سلامت یہ تعبیر تھوڑی آپ کےلئیے خطرناک ہے کہ آپ کے سارے گھر والے آپ کے دیکھتے ہی مریں گے بادشاہ نے سنتے ہی فورا ایک حکم صادر کیا کہ اس گستاخ کو اسی وقت جان سے مار دیں اس کے قتل کے بعد بادشاہ نے ایک اور مفسر کو بتایا مگر اس بار آنے والا مفسر بادشاہ سے کہیں اگلے درجے کا ذہین اور سمجھنے والا شخص تھا کہا بادشاہ سلامت اس خواب میں آپ کے لئیے خوش خبری ہے بادشاہ خوش ہو کے کہنے لگا جلدی بتاؤ کہا بادشاہ سلامت آپ اتنے خوش قسمت ہیں کہ آپ کی عمر آپ کے گھر والوں سے کہیں زیادہ بڑی ہے تو باشاہ کا یہ سننا تھا کہ خوشی سے جھومنے لگا اور اس مفسر کو ڈھیر انعاموں کے ساتھ روانہ کیا تو قارئین محترم دیکھ لیا نہ آپ نے کہ کس طرح الفاظ اثر رکھتے ہیں انہیں الفاظ کے ذریعے اپنے غیر بنتے ہیں اور غیر اپنے بنتے ہیں
دوست دشمن بنتے ہیں اور دشمن دوست بنتے ہیں شاید اسی وجہ سے یہ کہا گیا ہے کہ زبان کا زخم تلوار کے زخم سے کہیں زیادہ یعنی تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *