سلطان نور الدین زنگی عالم اسلام کا ایک نامور عا دل اوربہادر حکمران جس کا نام تا ابد تاریخ کے صفحوں میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا ایک خوش نصیب امتی جنہیں دنیا محافظ روزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر پہچانتی ہے۔ایک رات سلطان نور الدین زنگی کو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لوگوں کی شناخت کرواتے ہوئے فرمایا
“اے نور الدین زنگی یہ لوگ مجھے تکلیف دے رہے ہیں “
سلطان نور الدین زنگی اس خواب کی وجہ سے کافی بے چین اور بے قرار ہو گئے فورا مدینہ کی طرف رخت سفر باندھا اور پچیس دنوں کی مسافت کو سلطان نور الدین زنگی نے پندرہ دنوں میں طے کیا اور مدینہ پہنچے ۔وہاں کے منتظمین سے بات کی اور تمام شہر مدینہ کو دعوت پر مدعو کیا۔تمام شہر مدینہ کے لوگ اس دعوت میں شریک ہوئے سلطان ہر آنے والے شخص کو دیکھتے اور پہچاننے کی کوشش کرتے مگر جن کی تلاش سلطان کو تھی وہ دو لوگ ان میں کہیں نظر نہ آئے ۔ بالآخر سلطان نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا کوئی ایسا بھی ہے جس نے دعوت میں شرکت نہیں کی۔ اس پر وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے بتایا کہ دو لوگ ہیں جو مدینہ کے قریب رہتے ہیں انتہائی بزرگ نیک اور ایماندار لوگ ہیں ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں بس وہی دو لوگ اس دعوت میں شریک نہیں ہوئے. سلطان نے حکم جاری کیا کہ فورا ان دونوں کو میرے سامنے پیش کیا جائے ۔جیسے ہی ان لوگوں کو سلطان کے روبرو پیش کیا گیا سلطان نورالدین زنگی نے انہیں فوراً پہچان لیا یہ وہی لوگ تھے جن کی شناخت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کروائی تھی ۔سلطان نور الدین زنگی نے ان سے دریافت کیا ‘تو بتاؤ کون ہو تم ‘تو انہوں نے کہا جناب عاشق رسول ہیں روزہ رسول کے دیدار کے تمنائی ہیں اور ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ روضہ رسول نظروں کے سامنے رہے.سلطان نے ان سے کہا کہ تم خود کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہو کہ تمہاری زبان سے ایک مرتبہ بھی ان کے نام کے ساتھ درود پاک نہیں نکلا ۔
اسی کشمکش کے عالم میں سلطان اپنے سپاہیوں کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ فرش پر بچھی قالین ہٹا کر دیکھا تو ایک خندق کھودی گئی تھی جو روزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا رہی تھی ۔سلطان انتہائی غم و غصے کی حالت میں واپس ان لوگوں کے پاس گئے اور ان سے حقیقت دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں یہودی تھے جو نعوذباللہ اطہر مبارک صلی اللہ علیہ وسلم چرانے آئے تھے ان کے سر قلم کر دیے گئے اور نیزوں پر چڑھا کر سارے شہر میں پھراے گئے اور ساتھ یہ اعلان کروایا گیا کہ اے مسلمانو! ایسے لوگوں سے خبردار رہنا جو بظاہر دین کا لبادہ اوڑھ کر ہمیں دھوکا دے رہے ہیں۔دوسری طرف روزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں جانب سے ذمین کھودوائی اور سیسہ پگھلا کر اس میں ڈلوایا گیا تاکہ تاقیامت دوبارہ اس طرح کی ناپاک کوشش کرنے کا کوئی سوچ بھی نہ سکے ۔یہ سلطان نورالدین زنگی کی خوش قسمتی تھی کےانھیں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ ہونے کا شرف ملا ۔ اللہ تعالی انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا کرے ۔ ( آمین)
تحریر:سکندرشاہ