Skip to content
  • by

حضرت ام سلیمؓ کا بیٹے کی وفات پر اپنے شوہر کے ساتھ ہمبستری کرنا…حکمت جانیے

سیدنا ابن یسار مسلمؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں تجارت کی غرض سے بحرین کی طرف گیا وہاں میں نے دیکھا کہ ایک گھر کی طرف بہت سے لوگوں کا آنا جانا ہے میں بھی اس طرف چلا گیا۔ وہاں جا کر دیکھا کہ ایک عورت نہایت افسردہ، غمگین اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے بیٹھی ہے اور اس کے ارد گرد غلاموں اور لونڈیوں کی کثرت ہے اس کے کئی بیٹے اور بیٹیاں ہیں، تجارت کا بہت سارا سازوسامان اس کی ملکیت میں ہے خریداروں کا ہجوم لگا ہوا ہے وہ عورت ہر طرح کی نعمتوں کے باوجود نہایت غمگین تھی کسی سے کوئی بات نہیں کرتی تھی۔ میں وہاں سے واپس لوٹ آیا اور اپنے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد دوبارہ اسی گھر کی طرف چلا گیا۔

وہاں جا کر میں نے اس عورت کو سلام کیا اس نے جواب دیا اور کہنے لگی اگر آپ کو کبھی دوبارہ یہاں آنا ہو اور کوئی کام ہو تو ہمارے پاس ضرور آنا۔ پھر میں واپس اپنے شہر چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد مجھے دوبارہ کسی کام کےلئے اسی عورت کے شہر میں جانا پڑا جب اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ اب وہاں کسی طرح کی چہل پہل نہیں ہے، نہ تجارتی سامان ہے نہ خدام اور لونڈیاں نظر آرہی ہیں اور نہ ہی اس عورت کے بیٹے بیٹیاں موجود ہیں۔ ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ میں بڑا حیران ہوا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے کسی کے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آواز آنے لگی جب دروازہ کھولا گیا اور میں اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ وہی عورت اب نہایت قیمتی اور خوش رنگ لباس میں ملبوس بڑی خوش و خرم نظر آرہی تھی اور اس کے ساتھ صرف ایک عورت گھر میں موجود تھی اس کے علاوہ گھر میں کوئی اور موجود نہیں تھا مجھے بڑا تعجب ہوا۔ میں نے اس عورت سے پوچھا کہ جب میں پچھلی مرتبہ آپ کے پاس آیا تھا تو تم کثير نعمتوں کے باوجود غمگین اور نہایت افسردہ تھی لیکن اب خادموں لونڈیوں اور دولت کی عدم موجودگی میں بھی بہت خوش اور مطمئن نظر آرہی ہو، اس کا راز کیا ہے؟

تو وہ عورت کہنے لگی کہ تم تعجب نہ کرو، بات دراصل یہ ہے کہ جب پچھلی مرتبہ تم مجھ سے ملے تو میرے پاس دنیاوی نعمتیں بہت زیادہ تھی میرے پاس مال و دولت اور اولاد کی کثرت تھی اس حالت میں مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید میرا رب مجھ سے ناراض ہے اس وجہ سے مجھے مصیبت اور غم نہیں پہنچتا ورنہ اس کے پسندیدہ بندے تو آزمائشوں اور مصیبتوں میں مبتلا رہتے ہیں اس وقت یہی سوچ کر میں پریشان و غمگین تھی اور میں نے اپنی حالت ایسی بنائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد میری مال و اولاد پر مسلسل مصیبتیں ٹوٹتی رہی، میرا سارا اثاثہ ضائع ہوگیا ہے میرے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کا انتقال ہوا خدام اور لونڈیاں سب جاتی رہی اور تمام دنیاوی نعمتیں مجھ سے چھین گئی اب میں بہت خوش ہوں کہ میرا رب مجھ سے خوش ہے اسی وجہ سے اس نے مجھے آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ بس میں اس حالت میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہی ہوں اس لئے میں نے بہت اچھا لباس پہنا ہوا ہے۔ حضرت سیدنا یسار مسلمؒ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں وہاں سے چلا آیا اور میں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کو اس عورت کے متعلق بتایا تو وہ فرمانے لگے کہ اس عورت کا حال تو حضرت سیدنا ایوب ؑ کی طرح ہے –

اور میرا تو یہ حال ہے کہ ایک مرتبہ میری چادر پھٹ گئی میں نے اسے ٹھیک کروایا لیکن وہ میری مرضی کے مطابق ٹھیک نہیں ہوئی تو مجھے اس بات نے کافی غمگین رکھا۔ ایک واقعہ منقول ہے کہ حضرت سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو طلحہؓ کا بیٹا جوکہ حضرت ام سلیمؓ کے بطن سے تھا وہ فوت ہوگیا حضرت ام سلیمؓ نے تمام گھر والوں سے کہا کہ جب تک میں ابو طلحہؓ کو بیٹے کی وفات کا نہ بتاؤں اس وقت تک کوئی بھی انہیں اس کے متعلق نہ بتائیں جب حضرت سیدنا ابو طلحہؓ رات کو گھر تشریف لائے تو حضرت ام سلیمؓ نے انہیں رات کا کھانا پیش کیا اور جب آپؓ کھانے سے فارغ ہوچکے تو حضرت ام سلیمؓ نے ایسا بناؤ سنگھار کیا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا پھر حضرت سیدنا ابو طلحہؓ نے ان سے ہمبستری کی اور جب آپؓ فراغت پاچکے تو حضرت ام سلیمؓ نے کہا ہے اے ابو طلحہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی چیز امانت کے طور پر دی جائے اور پھر وہ امانت ان سے طلب کرلی جائے تو انہیں وہ امانت واپس کرنی چاہئے یا نہیں؟ آپؓ نے فرمایا انہیں ضرور وہ امانت واپس کرنی چاہیے۔ یہ جواب سن کر ام سلیمؓ نے کہا کہ بس آپ اپنے بیٹے کو اسی طرح گمان کرلے یعنی وہ بھی ایک امانت تھی جو واپس لے لی گئی۔ انہوں نے جب حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بتایا تو غمخوار آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی اللہ تمہاری اس رات میں تمہارے لئے برکت عطا فرمائے۔ پھر حضرت ام سلیمؓ حاملہ ہوگئی۔ ایک مرتبہ سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ام سلیمؓ بھی تھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے تو رات کا وقت تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی پر رات کو مدینہ میں نہ جاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیمؓ کو درد ذیل اٹھا چنانچہ حضرت سیدنا ابو طلحہؓ کو ان کے پاس ٹھہرادیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے۔

حضرت سیدنا ابو طلحہؓ نے بارگاه خداوندی میں عرض کیا اے میرے پروردگار تو خوب جانتا ہے کہ میں تو اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب مدینہ منورہ سے نکلوں تو تب بھی تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ ہو اور جب مدینہ منورہ میں داخل ہوں تب بھی تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہوں اور تجھے معلوم ہے کہ اب میں کیسی آزمائش میں مبتلا ہوگیا ہوں حضرت ام سلیمؓ نے عرض کیا اے ابو طلحہ اب میں پہلے کی طرح شدید درد محسوس نہیں کر رہی چنانچہ ہم چل پڑے اور مدینہ منورہ آئے تو انہیں دوبارہ درد ذیل شروع ہوگیا۔ حضرت سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ پھر میری والدہ نے مجھ سے فرمایا اے انس تم جب تک اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں نہ لے جاؤ اس وقت تک کوئی بھی اسے دودھ نہ پلائے چنانچہ میں صبح بچے کو لے کر بارگاہ نبوی میں حاضر ہوگیا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اونٹوں کو داگھنے والا آرہ تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر عنایت مجھ پر پڑی تو استفسار فرمایا شاید ام سلیمؓ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے میں نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لوہے کا آرہ رکھ دیا میں بچے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی آغوش رحمت میں لے لیا اور مدینہ منورہ کی اجوہ کجھور منگوائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے اقدس میں لے کر چبائی وہ خوب نرم ہوگئی تو بچے کے منہ میں ڈال دی بچے نے اسے چوسنا شروع کردیا یہ دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے چہرے پر اپنا دست شفقت پھیرا اور اس بچے کا نام عبداللہ ر کھا۔

ایک اور واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا احمد جعفرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا ابو علی حسین بن خیرؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابو تراب نخشبیؒ حجام کے پاس گئے اور فرمایا کہ اللہ کی رضا کےلئے میرے سر کے بال مونڈ دو حجام نے کہا بیٹھ جائیے آپؒ بیٹھ گئے اور حجام نے آپؒ کے سر کے بال مونڈنا شروع کردیئے اسی دوران اس شہر کے حاکم کا وہاں سے گزر ہوا تو اس نے آپؒ کو دیکھ کر اپنے خادم سے پوچھا کیا یہ حضرت سیدنا ابو تراب نخشبیؒ تو نہیں؟ خادم نے کہا جی ہاں یہ آپؒ ہی ہے حاکم نے خادم سے کہا کہ تمہارے پاس اس وقت کتنی رقم موجود ہے؟ خادم نے کہا حضور میرے پاس اس وقت چمڑے کے ایک تھیلے میں ایک ہزار دینار موجود ہیں۔ حاکم نے کہا کہ جب آپؒ فارغ ہوجائے تو آپؒ کو ہماری طرف سے یہ ایک ہزار دینار نذرانہ پیش کرنا اور معذرت کرنا کہ اس وقت ہمارے پاس اتنی ہی رقم موجود تھی ورنہ کچھ زیادہ نذرانہ پیش کرتے۔ خادم آپؒ کے پاس آیا اور عرض گزار ہوا حضور یہ کچھ رقم شہر کے حاکم نے آپ کےلئے بھجوائی ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے پاس ابھی اتنی ہی رقم موجود تھی ورنہ کچھ زیادہ پیش کرتے، یہی حقیر سا نذرانہ قبول فرمالیں۔

آپؒ نے یہ سن کر کہا یہ رقم حجام کو دے دو۔ حجام فورا بولا میں اتنی رقم کا کیا کروں گا آپؒ نے فرمایا کہ یہ رقم لے لو حجام نے عرض کیا میں یہ رقم کبھی قبول نہیں کروں گا۔ اللہ عزوجل کی قسم اگر یہ دو ہزار دینار بھی ہوتے پھر بھی میں انہیں قبول نہ کرتا۔ آپؒ نے اس خادم سے فرمایا کہ یہ رقم واپس اپنے حاکم کے پاس لے جاؤ اور اسے کہنا کہ یہ تو حجام نے بھی قبول نہیں کی اسے اپنے پاس رکھے اور اپنے ان نامور میں خرچ کریں جو آپ کے ذمہ ہے
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کی محبت نصیب فرمائے، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *