ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن کندھے اچکا کر۔ ہم سے اگر استفسار کیا جائے کہ کیسے حالات چل رہے ہیں؟ تو پہلے چہرے کا رنگ تبدیل کرتے ہیں تھوڑا لال پیلے ہوتے ہیں پھر کندھے اچکاکر کہتے ہیں: “بس جی شکر ہے اللّٰه کا”
کیا ہم ایسا کرکے واقعی اللّٰه پاک کی نعمتوں کا شکر ادا کررہے ہوتے ہیں یا اپنے حالات کا منافقت سے رونا رو رہے ہوتے ہیں؟
سچا مسلمان یوں شکر ادا کرنے کی محض رسم پوری نہیں کیا کرتا بلکہ وہ ہر حال میں شکر ادا کرتا ہے۔ وہ حالات کی طلاطم خیز موجوں میں پروردگار کی ان نعتموں کو نہیں بھولتا جو اربوں روپے دے کر بھی حاصل نہیں کی جاسکتیں۔
چاند و تارے، زمین و آسمان، سورج، ماحول، موسم، ہوا اور پانی وغیرہ یہ نعمتیں ہم نے کب سے استعمال کرنا ترک کردیں ہیں؟ کیا ہم نے بھوکا سونا شروع کر دیا ہے؟ کیا روٹی پانی کے بغیر پل رہے ہیں؟ کیا ہوا کی آکسیجن کے بغیر سانس لے رہے ہیں؟ کیا روشنی کے بغیر دیکھتے آرہے ہیں؟ کیا یہ نعمتیں اس پروردگار کی عطا کردہ نہیں؟ کیا ہم انہیں کہیں سے خرید سکتے ہیں؟ ہر سوال کا جواب اگر نہیں ہے تو کیسا رونا اور کیسا دھونا؟
Also Read:
https://newzflex.com/54096
مری مری اور دبی دبی آواز میں رب العالمین کا شکر ادا نہیں کیا جاتا بلکہ مسلمان تلواروں کی نوک پہ چڑھ کر بھی رب کا شکر ادا کرنے والے حسین رضی اللّٰه عنہ کی طرح ہوتا ہے.
الله تعالٰی سوره رحمٰن میں بار بار فرماتے ہیں: “تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟”
یہ جھٹلانا دراصل ہمارے اسی اندازِ تشکر میں بھی پایا جاتا ہے جس کا میں نے شروع میں تذکرہ کیا تھا تو گفتگو کو سمیٹتے ہوئے میں شکر کے اس انداز کو ترک کرکے خوشی خوشی شکر ادا کرنے کی گزارش کرتا ہوں۔ جب بھی ہم اللّٰه پاک کا شکر ادا کریں تو وہ شکر ایسا ہو جو واقعی ہی شکر ہو ہمارے شکر میں اللّٰه تبارک وتعالیٰ کی وہ تمام نعمتیں بول رہی ہوں جو ہم استعمال کرتے ہیں اور اس کے تمام احسان بھی ہماری سوچ و فکر میں سموئے ہونے چاہئیں جن کے بغیر ہم نہ تو زندہ رہنے کے قابل ہوتے اور نہ ہی سانس تک لینے کے۔
اگر اس جہان میں تمام پانیوں کو دوات اور تمام کے تمام درختوں کو قلم بھی بنادیاجاۓ تو بھی ہم اس ذاتِ باری تعالیٰ کا شکر نہیں ادا کرسکتے
جواد صاحب نے لکھنے کی بہت عمدہ کاوش کی ہے
اور اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم بھی کوشش کریں کہ انکے الفاظوں کو ایک عمدہ رنگ دیا جاسکے اور اس ذاتِ باری تعالیٰالی کا شکر ادا کریں
Beshak