دُنیا میں حوروں کی وادی
نز ہت قریشی
وادی کیلاش پاکستان کی بُہت زیادہ پُر کشش اور خوبصورت وادی ہے۔ یہ وادی چترال سے تقریباً 35 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کوہ ہندو کش کے جنوب میں ایک قبیلہ ہے جو خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں آباد ہے ۔ یہ قبیلہ کیلاش زبان بولتا ہے۔ جو دردی زبان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے۔ کہ کیلاش قوم قبل از مسیح سے یہاں آباد ہیں۔ یہ چترال کے بُہت قدیم باشندے ہیں۔ سومالک ان کا بہت زبردست اور مشہور بادشاہ رہا ہے اور اُس وقت ان کی پورے چترال پر حکومت تھی۔ ان سے پہلے کوئی اور قوم یہاں آباد نہیں تھی۔
اس کے بعد رئیس خاندان یہاں آیا ۔ رئیس نے سومالک کو شکست دے دی اور یہاں قبضہ کر لیا۔کیلاش کے اس نام سے پہلے یہ کافرستان کہلاتا تھا۔ ان کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی قدیم روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اُنہوں نے اپنے قدیمی لباس کو بھی 2 ہزار سال سے برقرار رکھا ہوا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔کیلاش کا مطلب ہے سیاہ کپڑے پہننے والے ۔عورتیں عام طور پر سیاہ رنگ کے بڑے بڑے فراک پہنتی ہیں ۔ جن پر خُوش نُما اور رنگ برنگے سیپ ، موتی اور کوڑیوں سے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ وادی کیلاش کو کافر حسیناؤں کی وادی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کیونکہ یہاں کی لڑکیاں خوبصورتی اور حُسن میں بے مثال ہیں۔یہاں کے مقامی مرد شلوار قمیض پہنتے ہیں۔
کیلاش کا راستہ بُہت دشوار گزار ہے۔ اس لیے اس میں جیپ کے بغیر سفر ممکن نہیں۔ باہر سے آنے والے سیاح پہلے چترال آتے ہیں ۔ پھر وہاں سے وادی کیلاش کا رُخ کرتے ہیں۔ جہاں شور مچاتا بل کھاتا صاف شفاف ٹھنڈے پانی والا دریا اُن کا استقبال کرتا ہے۔ کیلاش تین وادیوں پر مشتمل ہے ۔ بمبوریت ، بریر اور رامبُور۔ بمبوریت سب سے بڑی اور خوبصورت وادی ہے ۔ جہاں پھلوں کے درخت بُہت زیادہ ہیں۔ یہاں کی ٹراؤٹ مچھلی بہت مشہور ہے اور یہاں سیاحوں کے لیے ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے۔ کیلاش میں شادی اور موت کی عجیب و غریب قسم کی رسومات ہیں۔ جب یہاں کوئی موت واقع ہو جائے تویہ لوگ غم کی بجائے خُوشی مناتے ہیں کیونکہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے والے کو دُنیا سے خُوشی خُوشی رُخصت کرنا چاہیے۔ پہلے لاش کو تابوت میں رکھ کر کسی کھلی جگہ رکھ دیا جاتا تھا۔ مگر اب اُنہوں نے بھی مُردوں کو دفنانا شُروع کر دیا ہے۔
کیلاش کا ایک مشہور تہوار چلم جوش ہے۔اس میں لڑکیاں خُوب بن سنور کر شرکت کرتی ہیں اور اپنے لیے جیون ساتھی تلاش کرتی ہیں اور سب کنوارے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں۔ اس موقع پر اپنی شادی کا اعلان بھی کرتے ہیں۔کیلاش میں ایک گاؤں ہے جہاں وہ تمام عورتیں رہتی ہیں۔ جو اُمید سے ہوتی ہیں۔ جب بچے کی پیدائش ہو جاتی ہے تو وہ واپس اپنے شوہر کے پاس گھرچلی جاتی ہے پہلا بچہ لڑکا ہو یا لڑکی کی پیدائش پرجشن منایا جاتا ہے۔ خوب دعوت ہوتی ہے۔ جانوروں کی قُربانی کی جاتی ہے اور مختلف قسم کے روایتی کھانے پکتے ہیں ۔ کیلاش عورتیں ہر مہینے مخصوص ایام میں گھر سے چلی جاتی ہیں اور اُسی گاؤں میں سات دن تک رہتی ہیں ۔ پاک ہونے کے بعد گھر کو لوٹتی ہیں یہ حوروں کی وادی ہے اور خُود بھی جنت کا نمونہ ہے۔
Pingback: Pearl continental will shortly open near Stunning Attabad Lake in Hunza Valley - نیوز فلیکس
I am the writer of ” hooron ki vadi” I want to join newsflex again