Skip to content

سقوط غرناطہ

2جنوری 1492ءسقوط غرناطہ اندلس میں آخری مسلم حکومت غرناطہ کی تھی جو جنوری 1492 میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی تھی جس کےبعدایک طرف جہاں ان کو زبردستی عیسائی بنایاگیاتودوسری طرف عربی نام سے لے کر نہانے تک کو قابل جرم سزابنایاگیا.لیکن تمام ریاستی جبر کے بعد،ان کو زبردستی عیسائی بنانے کے بعد، نسلوں کے گذر جانے کے بعدمسلمانوں کی شکست کے117سال بعد بھی جب ان کو ملک سے نکالنے کاحکم نامہ جاری ہوا توایسے بےشمار لوگ تھے جن کے سینوں میں اسلام زندہ تھا.

تاریخ کی کتابوں میں اس ضعیف بزرگ کاذکربھی ہے جس کو جب سمندر کنارے لایاگیاتو اس نے کہا کہ اگر میں مر بھی جاؤں تو مجھے مسلم سرزمین میں ہی دفن کرناتاریخ کی کتابوں میں ان مسلم خواتین کا ذکر بھی ہے جن کی بچوں کی پیدائش ان بندرگاہوں پر ہوئی جہاں عیسائی خواتین ان سے کہتی کہ بچہ ہمارے حوالےکردو سفرکھٹن ہے،یہ معصوم سہہ نہیں سکتاتو وہ کہتی کہ اس کا مسلمان مرنا عیسائی بن کر زندہ رہنے سے بہتر ہے.

اس سفر میں مسلمانوں کامال لوٹا گیا،ان کی عصمتیں تارتارکی گئی ایسے لوگ تھے جو بندرگاہوں پر جب پہنچے تو ان کی جسم پر کپڑا بھی نہیں تھا،عیسائی سپاہی جن کا کام ان کو حفاظت سے بندرگاہ پہنچانا تھا انہوں نے12سال تک کے بچوں کی عزتیں لوٹی.اس سب ظلم و بربریت کے بعد بندرگاہوں پر یہ بھی مناظر دیکھے گئے کہ مردوں نے عمامے باندھے،عورتوں نے اپنے سفید کپڑوں کو نقاب بنایا.یہ لال ٹوپیاں اورسفید نقاب ان کی اسلام کی پہچان تھی.117سال بعد بھی یہ لوگ اپنا دین، اپنی ثقافت اور اپنے رب کے احکامات نہیں بھولے تھے.کم سے کم 350,000 لاکھ کواندلس سے افریقہ کی طرف بھیجا گیا،جبکہ کچھ لوگ تعدادکوملینز تک بتاتے ہیں.

ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو دل سے عیسائیت قبول کرچکے تھے،جو عیسائی رسم و رواج کواپناکر اسلام سے مکمل دستبردار ہوچکے تھے، لیکن تاریخ گواہ ہےکہ یورپ نے ان کی تمام تر وفاداری کے باوجود بھی ان کو قبول نہیں کیاان کو دھتکارا گیا. کہاں ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے جبر کے بعد بھی اپنادین تھاما،ایک یہ تھے جنہوں نے دنیا کے مفاد کے لیے اسلام کو چھوڑا.وقتی فوائد ان کو شاید ملے لیکن مغرب نے ان کوبہرحال اپنے سے کم تر ہی پایااوران کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا.

یہ نسل کشی اگلے پانچ سال تک جاری رہی جب شہر شہر ریاستی اہلکار ان مسلم بیک گراؤنڈ رکھنے والے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سزا دیتے، غلام بناتے،قتل کرتے یا ملک بدر کرتے.1614 وہ سال تھا جب اسپین کے بادشاہ نے اندلس سے مسلمانوں کے خاتمے کااعلان کیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *