Skip to content

اسلام کی خوبصورتی

آج کے اس پرفتن دور میں مادیت کا غلبہ ہے،ہر کوئی اپنے مفاد کو مقدم رکھتا ہے۔محبت،یگانگت اور اخوت ایسے جذبات نایاب ہو چکے ہئں۔ یہ دنیا”تعلقات” کی دنیا ہے۔معاشی،معاشرتی یا سماجی سرگرمی ہو، تعلقات کے بغیر کام مشکل ہے۔

کاروباری تعلیم میں بھی سکلزکے نام پر ایسی عادات سکھائی جاتی ہیں کہ کس طرح مخاطب کو شیشے میں اتارا جا سکے۔ زبردستی مسکراہٹ،تکلفانہ گرم جوشی اور وقتی خوش اخلاقی ظاہری طور پر بڑی بھلی لگتی یے لیکن جونہی آپ جدا ہوتے ہیں،منافقت کا لبادہ اتر جاتا ہےاور اکثر پیتھ پیچھے نامناسب الفاظ نکل جاتے ہیں،اور اگر مفاد نہ ہو تو اس کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

سوال تویہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف مفاد ہی سب کچھ ہے؟
کیا بغیر کسی مقصد کے کسی سے مروت نہیں برتی جا سکتی؟
کیا مفاد و ضرورت کے بغیر کسی سے تعلق و محبت بیوقوفی شمار ہوگی؟
دنیاوی طور طریقوں کو دیکھا جائے تو جواب ملے گا ہاں،
اپنا مقصد حاصل کی کیجیے اور راہ جدا کر لیجے اگر بغہرکسئ فائدے کے کسئ سے کلبئ وابستگئ رکھیں گے تو عقل والے آپ کو بے عقل شمار کریں گے کیا تعلقات کی سرحدیں مفاد سے آگے ختم ہوجاتی ہیں؟ اسلامی تعلیمات کی رو سے دیکھتے ہیں۔ اسلام نے کلمہ طیبہ کے مقدس رشتے سے سب مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا۔

اللہ پاک نے قران مجید میں یہ فرما کر کہ بےشک تمام مسلمان آپس میں بھاءی بھائی ہیں تمام مسلمانوں کہ آپس میں اخوت کے پاکیزہ رشتے میں جوڑ دیا۔
حدیث پاک میں ھے کہ سات خوش نصیبوں کو اللہ پاک بروز قیامت اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گااور ان میں سے دو وہ آدمی ہوں گے جو محض اللہ کی رضا کے لیے اکھٹے ہوئے اور اسی کے لیے جدا ہوئے۔ دو مسلمانوں کی ملاقات بھی فاءدے سے خالی نہیں جاتی چنانچہ اسی بارے میں حدیث ملاحظہ فرمائیں، جب مسلمان آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کردی جاتی ہے

تیرا اپنے بھای کو دیکھ کر مسکرانا صدقہ ہے
اللہ پاک ھم کہ عمل کی توفیق عطا فرماءے( آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *