1960سے لیکر 1970 کے درمیان ترقی کرتی ہوئی معیشت۔دنیا کی نظر میں تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ملک مانا جاتا تھا۔ایک ملک ساؤتھ کوریا جس نے اس وقت ترقی کا یہ نمونہ اپنے ملک میں استعمال کر کے ترقی کی۔ملک پاکستان جس نے ترقی کے منازل ابھی طے کرنا ھی شروع کیے تھے 1970 کے بعد ملکی معیشت میں تیزی سے گراوٹ ھونا شروع ہو گئی۔ وہ ملک جس نے دوسرے ملکوں کےلئے ایک مثال بننا تھا ۔دوسرے ملکوں کے آسرے پر آ کھڑا ھوا۔1970 کے بعد کے ملکی سیاست دانوں نےاس ملک کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر اس ملک کو لوٹنا شروع کردیا اور نتیجتاً تباہی کے اس کا مقدر بننے لگی اگر بات کی جائے مغرب کی جو کہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔انھوں نے اپنے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا اور کرپشن جو کہ کس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے اس کو پس پشت ڈالا اور لوگوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا ۔
وجہ یہ ہے کہ جو اسلام کے بتائے ہوئے راستے ہیں انہوں نے اس کے اوپر عمل کیا اور لوگوں کے لیے آسانیاں قانون ہے۔یعنی امیر کے لیے انصاف ایک مردہ گھوڑے کی سی مثال ھےاس کی مثال کچھ اس طرح دی جا سکتی ہے۔کہ اگر ایک بڑا جاگیر دار یا کوئی سیاست دان اگر جیل میں ڈال دیا جائے تو اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی یہ چھوٹی موٹی بیماری اس کے لیے رہائی کا پروانہ بن جا تی ہے یا اس کے لیے ہسپتال میں الگ اور سپیشل کمرہ سب جیل قرار دے دیا جاتا ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی غریب شخص بیمار ہو جائے تو اس کی بیماری کا علاج جیل میں ہی جاری رکھا جاتا ہے۔
اس ملک پاکستان میں تقریباً ستر فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے ۔مگر یہاں کسان دوست پالیسیوں کا فقدان ہے۔ کسان کو ذراعت اشیا میں ریلیف دینے کی بجائے الٹا اسکی فصل آنے پر ریٹ میں کمی کر دی جاتی ہے ۔جس سے مہنتی کسان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ اور جس کے ذریعے ملک کا نظام چلتا ہے وہ افلاس کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے ۔اسی طرح غریب امیروں کی نوکری میں زندگی گزار دیتا ہے تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔اللہ غریبوں کی مدد فرمائے۔امین