Skip to content

2021 میں پاکستان میں کونسی تبدیلیاں رونما ہوں گی؟

ایاز میر کی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات میں کروانے والے ڈاکٹر شہباز گل تھے اور اس ملاقات میں تین گزارشات کی گیئں تھیں جن کا احوال کچھ یوں ہے،

نمبر 1 ؛سیمنٹ فیکٹریوں ماحولیاتی آلودگی میں بےپنا ہ اضافہ کی موجب بن چکی ہیں مزید برآں کہ چودہ نئی سیمنٹ فیکٹریاں بھی لگانے کی عرضی حکومتی میز پر پڑی ہے۔ان فیکٹریوں کو ماحولیاتی آلودگی کے مناسب اقدامات کے بعد ہی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔

نمبر 2؛شاپر بیگز پر مکمل پابندی عائد کی جائے اس پر وزیرِ اعظم صاحب نے تعجب سے ڈاکٹر شہباز گل کی طرف دیکھا اور حیرانگی سے پوچھا کیا شاپر بیگز پر مکمل پابند ی نہیں لگائی گی۔

نمبر 3؛
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کی پاکستان کے بارے میں تبدیلی اور اس کے پس پردہ محرکات سعودی عرب کا پاکستان سے تیل کی مد میں رقم کی واپسی اور عرب امارت کا ویزوں کے بارے میں تعطل ۔

ایاز میر کے دوستوں نے اُنہوں فون کرکے باطور خاص اس ملاقات کے اسباب اور محرکات جاننے کی سر توڑ کوشیش کیں ہیں اور ساتھ ساتھ اُنہوں نے مختلف آراء بھی یوں سمجھیئے کہ گھڑ لیں ہیں۔کہ ایاز میر کو شائد سینٹ الیکشن کی پیش کش کی گی ہے۔اور یہ بھی کہ خان صاحب نے اُن سے چند مشورے بھی یا یوں سمجھئے کہ سیاسی نسخے بھی مانگ ہیں یہ تما م قیس آرائیاں اُن کے حلقہءِ احباب کی طرف سے ہو رہی ہیں۔بقول ایاز میر اِن تما م باتوں اور قیس آرائیوں میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے، بلکہ یہ باتیں صداقت کے ابتدائی اصولوں سے بھی میل نہیں کھاتی۔مزید برآں اُنہوں نے کہا کہ سیاست جتنی اُنہوں نے کرنی تھی وہ کر چکے اور یہ بھی کہ صحافت ہی اُن کی اب منزل ہے جس کو وہ بطریقِ احسن سرانجام دے رہےہیں۔اب سیاست اُ ن کے بس کی بات نہیں ہے۔بقول مرزا غالب سپہ گری ہی ہے پیشہ اپنا۔۔ اور یہ بھی کہ ایک دفعہ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم نے بھی اُن سے یہی کہا تھا کہ سیاست کرو یا صحافت۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *