Skip to content
  • by

کسی زمانے میں ایک فاحشہ عورت ایک سجے ہوئے بالاخانہ پر رہتی تھی اور عیاش مرد اس کے پاس آکر راتیں گزارتے اور۔۔۔۔

حضرت بایزید بسطامیؒ کے مبارک زمانے میں ایک فاحشہ عورت ایک سجے ہوئے بالاخانہ پر رہتی تھی اور عیاش لوگ اس کے پاس آکر راتیں گزارتے اور اپنا دین اور دنیا دونوں برباد کرتے۔ ایک روز شام کے وقت حضرت بایزید بسطامیؒ اس کے دروازے پر جا بیٹھے۔ جو شخص بھی اوپر جانے کےلئے آتا آپؒ کو دیکھ کر واپس چلا جاتا۔ جس کی وجہ سے اس رات اس کے پاس کوئی نہیں آیا۔ اس نے لونڈی سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ آج تمہارے دروازے پر بایزید بسطامی ؒ بیٹھے ہیں۔ جو بھی آتا ہے انہیں دیکھ کر واپس چلا جاتا ہے۔

فاحشہ نے کہا کہ انہیں اوپر بلا لو وہ انہیں اوپر لے آئی۔ فاحشہ نے کہا جناب کہاں آپ اور کہاں میں۔ آپ کا مجھ سے کیا کام ہے؟ انہوں نے فرمایا آج کی رات میں یہاں رہوں گا۔ فاحشہ نے کہا میری فیس دو سو اشرفیاں ہیں۔ آپ ؒ نے دو سو اشرفیاں جیب سے نکال کر دے دی اور فرمایا اب جو میں چاہوں تجھے کرنا ہوگا۔ اس نے کہا منظور ہے۔ آپ ؒ اپنے کپڑوں کا جوڑا ساتھ لائے تھے آپ ؒ نے فرمایا اپنے کپڑے اتار کر یہ کپڑے پہن لو۔ اس نے پہن لئے۔ فرمایا دو قدم آگے بڑھو۔ وہ دو قدم آگے بڑھی تو آپ ؒ نے آسمان کی طرف منہ کرکے کہا یااللہ میں نے اس عورت کا ظاہر بدل کر نیک کردیا ہے اب اس کے باطن کو تو بدل کر نیک کردے۔ پھر آپ ؒ نے فرمایا میرے یہ کپڑے اتار دے۔ وہ بولی معاذاللہ اب میری طبیعت وہ نہیں رہی میں نے بارگاہ الہی میں سچے دل سے توبہ کرلیا ہے مجھے فراق کے بعد وصال اور غضب کے بعد رضا مل گئی ہے۔ میرے لئے دعا کرنا اللہ مجھے استقامت دے۔ حضرت بایزید بسطامی ؒ اسے چھوڑ کر چلے گئے اور اگلے سال اسے کعبہ شریف کا طواف کرتے دیکھا۔ عورت کی معنی ہے قابل حجاب اور چھپانے کی چیز۔ عورت اگر عریانی پسند اور عیاشی کا باعث بن جائے تو ایسی عورت قوم کےلئے ننگ و عار ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ والوں کے وجود سے لوگ برائیوں سے بچ جاتے ہیں۔

چنانچہ فاحشہ عورت پر جو نگاہ کرم فرمائی تو اپنے کپڑے اسے پہنا کر اس کا ظاہر بدل کر اس کا باطن بھی بدل ڈالا اور جس کے اردگرد عیاش لوگ طواف کرتے تھے اسے کعبہ شریف کا طواف کرنے میں مشغول کردیا۔ ایک روز آپ ؒ نے صحرا میں اپنے کپڑے دھوئے، ایک عقیدت مند جو ساتھ تھا عرض کرنے لگا کہ اسے سکھانے کےلئے انگوروں کی دیوار پر لٹکا دیتے ہیں۔ فرمایا ایسا نہ کرنا کیونکہ ایسا کرنے سے درخت کی شاخیں ٹوٹ جائیں گی۔ عرض کیا گیا کہ گھاس پر پھیلا دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسا نہ کرنا کیونکہ گھاس چوپاؤں کا چارہ ہے۔ ہم اسے ان سے نہیں چھپاتے۔ پس آپ ؒ کپڑے کو اپنی پشت مبارک پر رکھ کر دھوپ میں کھڑے ہوگئے جب ایک طرف سوکھ گئی تو دوسری طرف الٹا دیا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ کے پاس ایک اونٹ تھا جس وہ اپنا اور مریدوں کا سامان لاد کر چلا کرتے تھے۔ ایک دن سامان لاد کر کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ ایک شخص نے کہا کہ بےچارے اونٹ پر کس قدر بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ آپ ؒ نے ارشاد فرمایا کہ غور سے دیکھو، اونٹ پر کوئی بوجھ ہے؟ اس نے دیکھا تو بوجھ ایک ہاتھ اونچا تھا۔ فرمایا سبحان اللہ عجیب معاملہ ہے اگر میں اپنا حال تم لوگوں سے پوشیدہ رکھوں تو ملامت کرتے ہیں اور اگر ظاہر کروں تو اس کی تم لوگوں کو طاقت نہیں ہے۔ پھر اس شخص سے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگوں کو میری زیارت سے لعنت ہوتی ہے اور بعض لوگوں پر رحمت ہوتی ہے۔ لعنت اس وجہ سے کہ جب وہ شخص میرے پاس آتا ہے اور مجھ پر اس وقت خاص حالت غالب ہوتی ہے، وہ مجھے اپنے آپ میں نہیں پاتے اور میری غیبت کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ آئے، حق کو مجھ پر غالب پاکر معذور رکھتے ہیں ان پر رحمت ہوتی ہے۔

ایک دفعہ کسی نے آپ ؒ سے دریافت کیا کہ آپ کا پیر کون ہے؟ آپ ؒ نے فرمایا کہ ایک بوڑھی عورت۔ اس شخص نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے غلبہ شوق میں جنگل کی راہ لی وہاں ایک بوڑھی عورت کو بوجھ اٹھائے ہوئے دیکھا، وہ مجھ سے کہنے لگی کہ یہ بوجھ بہت بھاری ہے ذرا اسے اٹھانا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میں اپنے وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا اس عورت کا بوجھ کیسے اٹھاتا، میں نے ایک شیر کی جانب اشارہ کیا، وہ آیا تو میں نے وہ بوجھ اس کی پشت پر رکھ دیا اور اس بوڑھی عورت سے پوچھا کہ اب تو شہر جاکر کیا بیان کرے گی؟ اس نے کہا کہ میں کہوں گی کہ آج ایک ظالم کو دیکھا ہے۔ میں نے کہا وہ کیسے؟ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ شیر مکلف ہے یا غیر مکلف؟ میں نے کہا کہ غیر مکلف۔

اس نے کہا کہ جس کو خدا تکلیف نہ دے اور اس کو تو تکلیف دے تو تو ظالم ہے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ ظالم ہوں۔ جس پر اس بوڑھی عورت نے کہا کہ پھر بھی تو چاہتا ہے کہ شہر کے لوگ جان لیں کہ شیر تیرا تابع ہے اور تو صاحب کرامت ہے۔ یہ سن کر میں نے توبہ کرلی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *