قائداعظم ڈے اور ہم

In شوبز
December 24, 2020

قائداعظم ڈے اور ہم.25 دسمبر کو پاکستان بھر میں قائد اعظم محمد علی جناح کا پوم پیدائش بڑی شان و شوکت سے منایا جا رہا ہے اور ہم کیوں نہ منائیں یہی وہ عظیم ہستی ہے جس کی مرہون منت مسلسل جدوجہد ہمت اور ولولے سے ہمیں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان جیسا ایک عظیم آزادانہ و مختارانہ ملک حاصل ہوا۔
جس کی وجہ سے ہم آج خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔ اور یہ ان کا احسان عظیم ہے۔
تعمیرو ترقی اور استحکام میں ہمارا کردار
ہم اپنے قائد کا دن تو بڑے ذوق وشوق سے منا رہے ہیں. اور ان کی عظیم جد وجہد کو سلام پیش کر رہے ہیں. اور ان کی روح کو ایصال ثواب بھی پہنچا رہے ہیں .لیکن اس کے باوجود کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ قائد نے ہمیں جو ملک ہمارے حوالے کیا ہے. ہم نے اس ملک کی حفاظت تعمیرو ترقی اور استحکام کے لیے کیا کیا کردار ادا کیا ہے؟
آج اس دن کو شان و شوکت سے منانے سے ہم اپنے حقوق وفرائض سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے .کیونکہ ہم اس دن عہد تو کر لیتے ہیں. لیکن صرف اپنی زبان سے اور لوگوں کو دلاسہ و تسلی دے کر خود کو قائد کے وژن کے علمبردار سمجھنے لگتے ہیں لیکن ہم یہ بات ہمیشہ کی طرح بھول جاتے ہیں. کہ ہم نے قائد کے پاکستان کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم ڈھا رکھا ہے. اور اس کو لوٹ مار کرنے اور اس کی بنیادوں کوکوکھلا کرنے میں ہم نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے.
آباو اجداد کی پناہ قربانیاں
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ قائد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست بنانے میں جن مقاصد کو بروئے کار لایا. اور جس کے لیے ہمارے آباو اجداد نے جو قربانیاں دیں .ہم وہ مقاصد مکمل طور پر بھول چکے ہیں. اس ریاست کا قیام ایک اسلامی معاشرے کا قیام تھا جس میں مسلمان ہر لحاظ سے آزادانہ طور پر اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گزاریں۔
قائد کی وفات کے بعد کے حالات
قائد کی وفات کی بعد ہم نے اس ریاست کو اس انگریز کے زیر اثر بنا دیا جس سے آزادی کے لیے قائد کی ایک آواز پر ہمارے آباو اجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں. جن کو بیان کرنا شروع کر دیا جائے تو صفحات کم پڑ جائیں گے. انگریز سے آزادی لینے کے بعد بھی ہم انگریزوں کے زیر اثر ہی ہیں. اور ہمارے تمام قانون و سماجی معاشرتی رسم و رواج انگریزوں کی طرز پر ہیں. ہم نے اپنے اللہ کے دئیے ہوئے احکامات اور رسول ﷺ کے احکامات اور اپنے مذہب اسلام کے تمام تر طور طریقوں کو بھلا دیا ہے۔
آج ہم اپنے نئی نسل کو بھی انگریز کے نقش قدم پر چلنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔آج ہماری اکثریت نوجوان نسل اسلام سے نا واقف ہیں اور انگریز کی تاریخ سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم کے نظام سے لیکر نچلی سطع تک کے نظام میں انگریزوں کے ہی نظام قائم ہیں. اور ہمارے مذہب اسلام کا نظام کہیں بھی نظر نہیں آتا لیکن ہم بڑے فخر سے قائد ڈے سے لے کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آزادی کے دن بڑے جوش و جذبے سے منا لیتے ہیں. لیکن کبھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر نہیں دیکھتے ہیں کہ ہم آزاد بھی ہیں کہ نہیں۔
موجودہ حالات
ہمارے حکمرانوں سے لے کر عوامی کی نچلی سطع تک ہم مکمل طور پر انگریزی نظام میں ڈوبے ہوئے ہیں.پاکستان کا پارلیمنٹ ہو یا سینٹ،صوبائی نظام ہو یا ضلعی، تحصیل کا نظام ہو یا علاقائی، عدالتی نظام ہو یا قانونی، سماجی نظام ہو یا معاشرتی، سیاسی ہو یا غیر سیاسی، تعلیمی ہو یا تکنیکی ہر نظام میں ہم نے انگریز کو ہی نجات کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ہم آج اپنے اصل مقصد سے مکمل طور پر ہٹ چکے ہیں .جس مقصد کے لیے ہمارے قائد نے دن رات محنت کر کے یہ ملک حاصل کیا تھا۔
اس کے برعکس ہم بجائے اپنے قائد سے شرمندہ ہونے کے پوری ڈھٹائی کے ساتھ نہ صرف ان کا یوم پیدائش مناتے ہیں بلکہ آزادی پاکستان اور دیگر دن مناتے ہیں۔ آج ہمیں اپنے کردار پر شرم بھی محسوس نہیں ہوتی. ہم نے قائد کے پاکستان کو بیرونی قرضوں اور سازشوں میں جکڑ دیا،.ہم نے قائد کے پاکستان پر نااہل، چور ڈاکو لٹیرے حکمران مسلط کر دئیے، ہم نے قائد کے پاکستان کے نظام میں انگریز کو اپنا مقصد بنا لیا۔
کبھی غالب نے کہا تھا
ہم کس منہ سے جائیں کعبہ کو غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی
اگر آج غالب کے اس شعر کو یوں لکھا جائے تو بے جا نہ ہوگا
آج کس منہ سے یوم قائد منائیں غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی

/ Published posts: 2

آیڈیٹر آن لائن لونہ نیوز اینڈ پاک 21نیوز سوشل میڈیا ورک ، سیکریٹری اطلاعات و نشریات آل پاکستان مسلم لیگ کہوٹہ ، جوائنٹ سیکریٹری پوٹھوہارپریس کلب کہوٹہ

Facebook