Skip to content

کسی کا دل توڑنے کی سزا کیا ہے ۔امام علیہ السلام نے فرمایا!

کسی کا دل توڑنے کی سزا کیا ہے ۔امام علیہ السلام نے فرمایا –امام علی علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص آیا وہ بندہ ہاتھوں کو جوڑ کے عرض کرنے لگا یا علی ہر گناہ کی قیامت کے دن اللہ نے کوئی نہ کوئی سزا رکھی ہے لیکن کسی کے دل توڑنے والے کے لیے اللہ نے کیا سزا رکھی ہے بس یہ کہنا تھا تو امام علی علیہ السلام فرمایا

اے شخص روز محشر اللہ جو سزا قتل کرنے والے کو دے گا وہی سزا کسی کے دل توڑنے والے کو دیگا ۔تو اس نے کہا یا علی قتل کرنا اور دل توڑنا ان دونوں کی سزا برابر وہ کیوں بات جب یہاں تک پہنچی تو۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے شخص یاد رکھنا کسی کو قتل کرنے سے انسان کا جسم مر جاتا ہے کسی کا دل توڑنے سے انسان کی روح کو وہ صدمہ پہنچتا ہے نہ وہ مر سکتا ہے اور نہ وہ جی سکتا ہے

تبھی اللہ نے روز محشر اس بدترین گناہ کی سزا یہ رکھی کہ اس کے ساری نیکیاں ختم کر دی جائیں گی اس کے مقدر میں دوزخ کو لکھ دیا جائے گا اور یہ کہا جائے گا کہ دنیاوی زندگی میں بدترین گناہ کسی کا دل توڑنا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *