ہمارے اساتذہ ہوں یا ہمارے والدین ہوں یہ اس دنیا میں سب سے زیادہ عزت کے لائق ہیں والدین کا کام دنیا میں ہمارے آنے کا ذریعہ بننا اور جو اساتذہ ہیں وہ ہم کو اس دنیا میں رہنے کا طور طریقہ سکھاتے ہیں اور والدین تو حقیقی والدین ہوتے ہیں جبکہ اساتذہ روحانی والد ہوتے ہیں تو جتنی عزت حقیقی والدین کی کرنی ہے اتنی ہی روحانی والد (اساتذہ) کی کرنی ہے.
قرآن مجید میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو –والدین کو تو اف تک بھی نہیں کہنی چاہیے اف کہنا حرام ہے-مفسرین نے اس آیت کے بارے میں (جس آیت میں یہ حکم نازل ہوا ہے) فرمایا ہے کہ لغت عرب میں اس سے بھی اگر کوئی ہلکا لفظ ہوتا تو اللہ تعالیٰ وہ ذکر فرماتے یہ لغت عرب میں یہ سب سے زیادہ ہلکا لفظ ہے مطلب یہ ہے کہ والدین کے بارے میں ہلکی سی بھی ناگواری محسوس نہ کرو اگر وہ کوئی بات کہیں تو فوری طور پر ہم اس ہر عمل پیرا ہوں یہ ہم پر اخلاقی فرض ہے .
والدین جیسا نعم البدل اس دنیا میں نہیں ہے بھائی اس دنیا سے رخصت ہو جائے یا بہن یا بیوی وغیرہ تو ان کی کمی کسی حد تک پوری ہو جاتی ہے لیکن والدین کی کمی کسی صورت پوری نہیں ہو پاتی اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کی قدر کر لیں جب اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت انسان کے پاس ہو تو اس کو اتنی قدر نہیں ہوتی لیکن جب وہ نعمت چھن جائے پھر اس کی قدر ہوتی ہے لیکن اس وقت صرف افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا -تو لہٰذا ہمیں والدین کی قدر کرنی چاہیے اگر والدین اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ہیں تو ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے رہنا چاہیے- باقی اساتذہ جو ہیں وہ تو اس امت کا سرمایا ہیں استاد چاہے جیسا بھی ہو وہ اس کا اور اس کے خالق حقیقی کا معاملہ ہے ہم پر یہ بات لازم ہے کہ ہم اس کا ادب کریں وہ ہماری تربیت کرتا ہے ہم کو معاشرے میں چلنا سکھاتا ہے-
استاد کے بارے میں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا تو میں اس کا غلام ہوں وہ چاہے تو مجھے بیچ دے یا اپنے پاس رکھ لے-اتنی بڑی بات اور فرمانے والے بھی ایک جلیل القدر صحابی ہیں تو واقعی اس میں اجر عظیم ہے کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ باادب با نصیب بے ادب بے نصیب تو ہم جتنا انکا ادب کریں گے اتنا ہی ہم علم و عمل میں ترقی پائیں گے آج کے دور میں موبائل فون ہیں اگر والدین میں سے یا اساتذہ میں سے کسی استاد صاحب کی کال آجائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم بیٹھے ہوں تو کھڑے ہو جائیں اگر چل رہے ہوں تو رک جائیں اور انکی بات بڑے ادب سے سنیں اس سے ہم دنیا میں بھی ترقی کریں گے اور آخرت میں بھی.
اللہ تعالیٰ ہم کو باادب بنائیں آمین ثم آمین
تحریر :حافظ سیف الرحمن چاند